وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے جدہ میں ملاقات ہوئی — یہ ایک مختصر سرکاری دورہ تھا، وزیراعظم چند گھنٹے قیام کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف/چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا؛ وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم نے ملاقات کے آغاز میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کے لیے سعودی عرب کی طویل المدتی حمایت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا وزیراعظم نے مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے برادر ملک کے ساتھ کھڑے رہنے کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں رسمی فوجی وردی کے بجائے غیر معمولی اہمیت کے حامل جنگی لباس میں شرکت کی۔ تصاویر میں فیلڈ مارشل کو افواج پاکستان کے کامبیٹ ڈریس میں دیکھا گیا، افواج پاکستان کا کامبیٹ ڈریس انتہائی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر عزت مآب پرنس سعود بن مشعل بن عبد العزیز، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق ، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کو الوداع کیا۔، گزشتہ ستمبر میں دوحہ میں ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، جہاں محمد بن سلمان نے وزیراعظم کے آئندہ دورۂ ریاض کا ذکر کیا تھا ملاقات کو پاکستانی میڈیا نے “بریکنگ نیوز” کے طور پر کور کیا، جس میں جدہ میں ہونے والی اس اہم نشست کی تصویریں اور ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔ملاقات میں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ولی عہد سے ملاقات کی اور اسے سعودی عرب کے ساتھ “مکمل یکجہتی” کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا ، جبکہ نے فیلڈ مارشل کی موجودگی کو پاکستان-سعودی یکجہتی کی علامت قرار دیا جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملے تو اس پیش رفت کو ایران جنگ کے تناظر میں کافی اہمیت کی نظر سے دیکھا گیا۔اس ملاقات کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی مدد اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے موجودہ مشکل صورت حال میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا اور خطے میں امن کی کوششوں میں ساتھ دے گا۔
بیان کے مطابق ولی عہد اور پاکستانی وزیراعظم نے ’دنیا اور خطے کی سکیورٹی اور استحکام پر حالیہ عسکری تنازع کے اثرات پر خصوصی گفتگو کی۔‘اس ملاقات میں سعودی گزٹ کے مطابق جنرل انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے صدر خالد الہمدان بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی جانب سے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے جواب میں تہران نے مشرق وسطی میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ سپوٹنک سے بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر عبد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سعودی عرب اور عرب اتحادیوں سے بیک چینل رابطوں کے ذریعے یہ بات کر رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی چال میں پھنس کر استعمال نہ ہوں جبکہ دوسری جانب ایران کو قائل کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ تنازع کو مذید پھیلانا خود اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔‘ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے اس سے قبل کہا گیا تھا کہ اسلام آباد نے تہران کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی یاددہانی کروائی ہے۔ پاکستان کو اس پیچیدہ صورت حال میں مہارت اور نزاکت سے سفارت کاری کرنا ہو گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ پاکستان کسی جال میں نہ پھنسے۔‘پاکستان کو خود ایران جنگ سے کس طرح کے خدشات ہیں اور سٹریٹجک اعتبار سے پاکستان اس تنازع کے پھیلنے سے کن مسائل کو ابھرتا ہوا دیکھ رہا ہے، اس حوالے سے آبنائے ہرمز سے تیل اور تجارتی کارگو کی بندشوں کے علاوہ پالیسی ساز ایک بڑی سٹریٹیجک تبدیلی سے خائف ہیں۔ ایران کی سیستان و بلوچستان پالیسی اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اس جنگ کے تناظر میں سنگین خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل اور تہران کی فوجی حکمتِ عملی پاکستان کے سرحدی علاقوں اور گوادر جیسے حساس منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات اور دفاعی معاہدے ہیں۔ان کے بقول: ’ان تینوں ملکوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایران پر حملہ نہ ہو، مگر اب یہ تینوں کسی نہ کسی صورت اس جنگ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔۔۔ سعودی عرب اور ترکی براہِ راست اور پاکستان بالواسطہ طور پر۔‘ خیال رہے اگرچہ ایران کے سعودی عرب پر حملوں میں دیگر خلیجی ریاستوں جیسی شدت نہیں ہے تاہم ایران کے سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملے رکے نہیں ہیں۔ پاکستان کا دوسرا اہم اتحادی ترکی ہے اور ترکی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ امریکی میزائل ڈیٹیکشن ریڈار سسٹم (خطے میں دیکھنے کی سکت)، دوحہ کے علاوہ ترکی کے علاقے مالاتیا میں ہے۔جنگ شروع ہونے پر ایران نے سب سے پہلے جن دو چیزوں کو نشانہ بنایا ان میں ایک دوحہ میں ریڈار سسٹم اور دوسرا ابراہم لنکن ایئر کیریئر تھا۔یاد رہے مالاتیا ترکی میں نیٹو بیس ہے اور منگل کے روز ترکی کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ ایک امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام جنوب مشرقی صوبے مالاتیا میں تعینات کیا گیا ہے۔اگرچہ ترکی نے بھی پاکستان کی طرح بہت کوشش کی ہے کہ وہ جنگ کا حصہ نہ بنے تاہم اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ دوحہ والے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچا ہے اور اب ترکی پر بھی ایرانی حملوں کا ممکنہ نشانہ ہو سکتا ہےیاد رہے اب تک ترکی پر دو بیلسٹک میزائل حملے ہو چکے ہیں۔یاد رہے ماضی میں ایرانی حکام پاکستان پر ایران مخالف بلوچ شورش پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور حتیٰ کہ پاکستانی حدود میں میزائل حملے بھی کر چکے ہیں۔ عمر کے مطابق ’اگر پاکستان سے قریب سمجھے جانے والے گروہ وہاں اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں تو اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے، جبکہ افغانستان کے لیے بھی اس کی اہمیت بڑھ سکتی ہے کیونکہ افغانستان اس وقت بڑی حد تک ایرانی بندرگاہوں اور سرحدی راستوں کے ذریعے درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا خدشہ ایران کے اندرونی عدم استحکام میں اضافہ ہے جس کے اثرات بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کی صورت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑی چینی سرمایہ کاری بھی خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے
خیال رہے سی پیک کے تحت چین نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے تحت خاص طور پر پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں کئی منصوبے جاری ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ طویل تنازع سے پاکستان کو کسی سٹریٹیجک یا معاشی فائدے کی توقع نہیں۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے فائدہ سے زیادہ تر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ملک پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور ’اسے اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ ایران کے ساتھ سرحدی صورتحال، بلوچستان میں عسکریت پسندی اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی وجہ سے وہ اس تنازع میں کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو سکتا ہے۔پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات کی ہے جس میں فریقین نے گذشتہ برس طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کی سنگینی اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے اندر انھیں روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اس بات پر زور دیا گیا کہ ’بلا اشتعال جارحیت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے آپشنز کو روکتی ہے۔‘آئی ایس پی آر کے مطابق فریقین نے اُمید اور خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی غلط اندازے سے بچنے کے لیے سمجھداری کا مظاہرہ کرے گا اور بحران کے پرامن حل کے خواہاں دوست ممالک کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔اس ملاقات کے بعد سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایران پر زور دیا کہ وہ ’سمجھداری سے کام لے اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے۔خالد بن سلمان نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے سعودی عرب پر ایران کے حملوں اور انھیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ملاقات میں مملکت پر ایرانی حملوں اور انھیں روکنے کے لیے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت درکار اقدامات پر بات چیت کی گئی۔یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر جواباً میزائل حملے کیے۔ایران کے ان جوابی حملوں کا بنیادی ہدف سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں اور جنگ شروع ہونے سے اب تک ایران اپنے عرب پڑوسیوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، یہاں تک کے قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا ’تمام ریڈ لائنز (سُرخ لکیریں) پہلے ہی عبور کی جا چکی ہیں۔‘موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے چیلینجز زیادہ ہیں۔ ایک جانب ہمسایہ مسلم ملک ایران ہے تو دوسری جانب سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اور قطر سمیت خلیجی ممالک سے دوستانہ روابط۔ یہ وہ تمام ممالک ہیں جنھوں نے لڑکھڑاتی معاشی صورتحال میں پاکستان کو سہارا دیا ہے۔جہاں پاکستان نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی پرزور مذمت کی وہیں تہران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کو بھی یقین دلایا کہ پاکستان ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔پاکستان کے ان متوازن پالیسی بیانات پر جہاں اس کو دو کشتیوں میں سوار ہونے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہونے کے باعث اگر اسے ایران کے خلاف ہتھیار اٹھانے پڑے تو کیا مسائل سامنے آ سکتے ہیں؟ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور مختلف ممالک پر جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو سعودی عرب کی سرزمین حملوں کےلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان نے لے کر دی، ایران کے معاملے پر پاکستان کی پُرخلوص سفارتی کوششوں کو ملک کے اندر غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔‘اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ سعودی عرب اور عمان کے خلاف کافی کم ردعمل ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوشش میں کوئی کمی نہیں، ہم پوری طرح آن بورڈ ہیں، میں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی براہ راست رابطے میں ہیں، ہمیں رابطے کے لیے دفتر خارجہ کی ضرورت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے ساتھ کھڑے ہوئے جس میں ایران سے پابندی ہٹانے کا کہا گیا تھا، ایران کی پارلیمنٹ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا، ہم نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس کروایا، سکیورٹی کونسل میں ہم نے ایران پر حملے کی مذمت کی، عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے بارے میں کہا گیا یہ امریکی اڈوں پر ہیں مگر تفصیلات کے مطابق ائیرپورٹس و انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں پاکستانی بھی شہید ہوا، ایران ایسا نہ کرتا تو ہم اِن ممالک کو ساتھ ملا کر مؤثر آواز بن سکتے تھے۔یاد رہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کے لئے کوئی واضح پوزیشن لینا ضروری ہو جائے گا اور یہ چیلنج پاکستان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔’پاکستان کی انرجی سکیورٹی اس صورتحال میں داؤ پر لگ سکتی ہے۔ ہماری بہت سی توانائی کی ضروریات ایران پوری کرتا ہے تو بہت سی ضروریات سعودی عرب سے پوری ہوتی ہیں۔ تو یہ بڑا چیلینج ہے۔ہماری فوج ایک طرف افغانستان کے حوالے سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مصروف ہے، دوسری طرف ہمارا دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ ہم بورڈ آف پیس میں بھی مصروف ہیں تو فوج کی مختلف محاذوں پر توجہ ہونے سمیت دیگر مسائل پاکستان کو درپیش آ سکتے ہیں ابھی تک تو پاکستان نے اپنے آپ کو ایک نیوٹرل سٹیٹ کے طور پر رکھا ہے جو کامیاب پالیسی ہے۔ ’یو اے ای پر حملہ ہو یا ایران پر، پاکستان نے دونوں کی مذمت کی ہے۔ اس سارے تناظر میں اب تک پاکستان کی ایک متوازن خارجہ پالیسی نظر آتی ہے لیکن اس میں آگے چیلینجز ہیں۔ہ ایک طرح سے پاکستان کے لیے پلِ صراط ہے جسے پاکستان نے عبور کرنا ہے یوں سمجھیں کہ ایک باریک سی لکیر پر پاکستان کو چلنا ہے جس کے دونوں طرف کھائی ہے‘پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کی گہری ثقافتی چھاپ ہے۔ جیسا کہ پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ کے بیان میں اشارہ کیا گیا ہے، پاکستان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔پاکستان ایران سے کہہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے اور سعودی عرب سے یہ یقین دہانی حاصل کر رہا ہے کہ اس کی زمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہ ایک قابلِ تعریف کردار ہے جو پاکستان ادا کر رہا ہے کیونکہ وہ دونوں ممالک کا دوست ہے۔ یہی وہ کام ہے جو دوستانہ ممالک کرتے ہیں پاکستان کی معاشی صورتحال مسلسل مختلف حملوں کا شکار ہے تو ہماری معیشت ہمارے دفاعی تقاضوں کو ڈیفائن کرتی نظر آ رہی ہے۔ تو بہتر تو یہی ہو گا کہ پاکستان توازن کے ساتھ پالیسی چلائے لیکن بظاہر نظر آ رہا ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہو جائے گا اگر اسی طرح یو اے ای پر ایران کے حملے چلتے رہے۔صرف پاکستان کی معیشت اسے ایک طرف جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے تاہم ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب اور ایران دونوں ہی اہم ہیں۔ اندرونی امن و امان، استحکام اور پاکستان میں موجود فرقہ واریت کے آتش فشاں سے بچنے کے لیے بھی۔ اگر پاکستان اس کو برقرار رکھ پایا تو بہتر ہو گا لیکن پاکستان کو صرف پاکستان کی معیشت ہی مجبور کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کو اپنی صورتحال دوست ممالک کے سامنے رکھنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ پاکستان نے دوستی تو نبھائی لیکن جب معاملہ آتا ہے سعودی عرب کا تو ہمارا اس کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ پاکستان ہر قیمت پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ابھی تک امریکہ کے فوجی اڈوں کے تناظر میں سعودی عرب پر حملہ ہوا تاہم اگر سعودی عرب کی سرزمین پر حملہ ہوتا ہے، سعودی عرب کی پراپرٹی انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے اور سعودی حکومت کہتی ہے کہ حملہ کرنا ہے تو پاکستان کسی صورت اپنے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گاایران سمیت تمام دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے تو وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں موجود فوجی اڈوں پر بہت کم حملے کیے کیونکہ ایران کو پہلے ہی متنبہ کر دیا گیا تھا کہ یہ چیز آپ کے لیے اچھی نہیں ہو سکتی کیونکہ سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ہمیں معاہدے کے تحت کسی بھی وقت اس جنگ میں کودنا پڑے گا۔سعودی عرب کا جہاں تک دفاعی معاہدہ ہے تو اس کے تحت پاکستان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ایران دونوں سے رابطہ کیا تھا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ کسی لمحےمیں جب سعودی عرب نے پاکستان کو کہا کہ ان کو پاکستان کی ضرورت ہے تو پاکستان اس آپشن کو استعمال کر سکتا ہے۔ایران کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے میں حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت ہے۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران سعودی عرب کا دشمن نہیں ہےیاد رہے کہ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے تھے۔سنہ 2023 میں تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا تھا۔مئی میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی بھی سعودی عرب نے کھل کر مذمت کی تھی۔اصل مسئلہ امریکہ اور اس کے اڈے ہیں جو استعمال ہو رہے ہیں جبکہ اسرائیل استحصال کر رہا ہے اور اس بات میں بھی ہمیں حیرانی نہیں ہو گی کہ ایران اور سعودی عرب یا ایران اور یو اے ای یا ایران اور عمان کو لڑانے کے لیے اس نے خود شرارتیں کی ہوں جیسے کہ پائپ لائن یا ہوٹل پر حملہ کرنا۔پاکستان نے سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا ہے اور خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے میں ایسی شرائط نہ رکھی جائیں جو ناقابل قبول ہوں ’سعودی عرب کے ساتھ ہمارا معاہدہ موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل نے جب دوحہ پر حملہ کیا تھا تو اس کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ایران اور سعودی عرب کا چین کی ثالثی میں تعلقات میں بہتری آئی تھی۔ سعودی عرب کا رد عمل ہم سبب نے دیکھا کہ جس پس منظر میں ایران نے حملہ کیا امریکن فوجی اڈوں پر وہ موقف اہم ہے۔